امریکی دھمکی اور آزاد خارجہ پالیسی 63

امریکی دھمکی اور آزاد خارجہ پالیسی

روس نے بھی آخر کار اپنا موقف پیش کر دیا۔جس میں پاکستان کے معاملات میں امریکی مداخلت کو شرمناک قرار دے کر اس کی مذمت کی گئی۔ روس بھی سمجھتا ہے کہ عمران خان کے دورہ روس پر امریکہ نے انہیں سزا دی ہے۔اس سے پہلے تحریک عدم اعتماد مسترد ہونے جیسی سرپرائز کے بعد پارلیمنٹ توڑ کر نئے انتخابات کرانے کے اعلان نے نہ صرف ملک میں روپے کی قدر مزید کم کر دی بلکہ سٹاک مارکیٹ بھی ساڑھے 1200پوائنٹ گر گئی ۔ تحریک عدم اعتماد مسترد ہونا سیاسی عدم استحکام کا باعث بنا ۔ جس نے ملکی معیشت پر منفی اثر ڈالا ہے۔ عدم اعتماد مسترد ہونے کی وجوہات میں امریکی امریکی معاون وزیر خارجہ برائے وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء ڈونلڈ لوکی مبینہ دھمکی بیان کی جا رہی ہے۔ ڈونلڈلو پر عمران خان کا الزام ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی اور امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید کو انتباہ کیا۔ ڈونلڈلو ان دنوں بھارت کے دورے پر تھے۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے ان کا انٹرویو لیا۔ عمران خان کی حکومت کے خلاف اس سازش کے بارے میں بھی سوالات کئے۔جب ان سے پاکستان میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔انٹرویو کے دوران ان کی واشنگٹن میں تعینات پاکستانی سفیر سے ہونے والے بات چیت کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ ان سے پوچھاگیا’’ عمران خان یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ آپ نے امریکا میں پاکستانی سفیر سے بات چیت کی اور انہیں کہا کہ اگر عمران خان تحریک عدم اعتماد کی صورت میں بچ جاتے ہیں تو پاکستان مشکل میں پڑجائے گا اور امریکہ پاکستان کو معاف نہیں کرے گا، کوئی ردِ عمل دیں گے؟‘‘۔ ڈونلڈ لو نے براہِ راست کوئی جواب دینے کے بجائے کہا ’’ہم پاکستان میں ہونے والی پیش رفت کو دیکھ رہے ہیں اور پاکستان کے آئینی عمل اور قانون کی حکمرانی کا احترام اور اس کی حمایت کرتے ہیں‘‘۔جب ان سے مزید پوچھا گیا کہ کیا آپ کی پاکستانی سفیر سے اس طرح کی کوئی بات چیت ہوئی تھی تو انہوں نے سوال کو دوبارہ نظر انداز کرتے ہوئے کہا’ ’اس سوال پر میرے پاس آپ کے لئے بس یہی جواب ہے‘‘۔ عمران خان کے ڈونلڈ لو سے متعلق بیان پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے معاون سیکریٹری کا بیان دہراتے ہوئے کہا’’ان الزامات میں کوئی سچائی نہیں ہے‘‘۔
عمران خان کا موقف ہے کہ جب قومی سلامتی کمیٹی نے تحریک عدم اعتماد میں کسی بیرونی قوت کے ملوث ہونے کی مذمت کردی تو اس پر ووٹنگ ہونا غیر متعلقہ ہوگیا تھا۔پی ٹی آئی ملک کی آزاد خارجہ پالیسی کی دعویدار ہے۔ تا ہم جب ملکی معیشت کا سارا انحصار آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے قرضوں پر ہے تو یہ دعویٰ حقائق کے بر خلاف اس لئے بھی ہے کہ یہ دونوں عالمی ادارے امریکہ کی دسترس میں ہیں۔ امریکی ہدایت کے بغیر یہ کسی ملک کو قرض نہیں دیتے۔اگر ڈونلڈ لو نے پاکستانی سفیرکے ساتھ ملاقات میں سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے تو یہ تشویش ناک بھی ہے اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت بھی۔ مگر امریکہ اس کی تردید کر رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ عمران خان کا امریکہ مخالف بیانیہ اس لئے ہے کہ یہاں کے عوام جذباتی طور پر امریکہ کی پالیسیوں کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ عمران خان کا یہ بیانیہ درست ہے کہ وہ کسی بھی ملک کی جنگ کے بجائے امن کی کوششوں میں تعاون کریں گے۔ اگر روس کے دورہ سے امریکہ ناراض ہوا ہے تو اس کا اظہار نہیں کیا گیا۔ عمران خان اور ان کے رفقاء نے یہ تصور کر لیا اور اس تصور کو ہی عوام میں پھیلایا گیا تا کہ ان کے امریکہ مخالف بیانیہ کی پذیرائی ہو۔ جس کے ردعمل میں امریکہ کا عمران خان کی حکومت گرانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر سازش کرنے کا جواز سامنے آسکے۔ جسے عوام تسلیم کرنے پر بھی مجبور ہوں۔
پی ٹی آئی کے منحرف اراکین پر امریکی سفارتخانے کے لوگوں سے ملاقاتیںکرنے اور سازش کرنے کا الزام بھی اسی تناظر میں عائد کیا گیا ہے۔ ان کا سوال یہ ہے کہ آخر کیا وجوہات تھیں کہ جن لوگوں نے پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑ دیا ان کی گزشتہ چند روز میں امریکی سفارتخانے کے لوگوں سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ عمران خان نے ایک جلسے میں ایک کاغذ دکھایاجسے دھمکی آمیز خط قرار دیا گیا۔ یہ خط اصل میں سفارتی کیبل تھا جو امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے بھیجی تھی۔ اس کے بعد وزیراعظم کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اہم وفاقی وزرا، مشیر قومی سلامتی، مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کسی ملک کا نام لئے بغیر کہا گیا کہ مشیر قومی سلامتی نے کمیٹی کو ایک غیر ملک میں پاکستان کے سفیر کے ساتھ غیر ملکی اعلیٰ عہدیدار کے باضابطہ رابطے اور کمیونیکیشن کے بارے میں بریفنگ دی، غیر ملکی اعلیٰ عہدیدار کے رابطے اور کمیونیکیشن سے متعلق وزارت خارجہ کے سفیر نے باضا بطہ طور پر آگاہ کیا تھا۔اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے مراسلہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر ملکی عہدیدار کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان کو غیر سفارتی قرار دیا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے بریفنگ پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ خط مذکورہ ملک کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے جو ناقابل قبول ہے۔ قوم سے ایک خطاب کے دوران بظاہر زبان پھسلنے کی صورت میں وزیر اعظم نے امریکا کا نام اس مراسلے کے پسِ پردہ ملک کے طور پر لیا، لیکن پھر کہا کہ یہ کوئی اور ملک ہے امریکا نہیں۔اس کے بعد امریکہ اور امریکی عہدیدار کا نام بھی لیا گیا۔
عمران خان یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کی آزاد خارجہ پالیسی ہے جب کہ اپوزیشن امریکہ کے ساتھ مل کر ان کے خلاف سازش کر رہی ہے۔ اس بیانیہ کے ساتھ وہ الیکشن میں جانا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ اس طرح عوام کو متاثر کریں گے اور ایک بار پھر ملک کا اقتدار حاصل کرناآسان ہو جائے گا۔ روسی وزارت خارجہ کے بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ایک طرف پاکستان روس سے قریب ہونے لگا ہے مگر اس سے امریکہ سے دوری پیدا ہو رہی ہے۔ مگر پاکستان کا مفاد کسی ایک بلاک میں شامل ہوئے بغیردنیا سے دوستی اور تجارت میںہے جو آزاد خارجہ پالیسی سے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ کسی ایک ملک سے دوستی کسی دوسرے ملک سے دشمنی کے نام پر نہیں ہو سکتی۔ اس سے پہلے امریکہ سے دوستی روس سے دشمنی کی بنیاد پر پروان چڑھائی گئی ۔ جس کی اسلام آباد نے سفارتی اور معاشی قیمت چکائی ہے۔

Column Published By :- Daily Ausaf
Column Writer :- Ghulam Allah Kiyani

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں